استنبول20جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)ترکی میں رواں ہفتے کے آغاز میں فوج کے ایک منحرف ٹولے کی جانب سے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش ناکام بنائے جانے کے بعدجہاں ایک طرف پولیس، فوج اور عدلیہ سمیت دیگر شعبوں میں آپریشنکلین اپ جاری ہے وہیں ترکی کے محکمہ مذہبی امورنے مقتول باغیوں کی نماز جنازہ کی ادائیگی پرپابندی عاید کر دی ہے۔میڈیانے مکہ کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ترک محکمہ مذہبی امور کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے دوران ہلاک ہونے والے باغیوں کی نماز جنازہ ادا کی جائے اور نہ ہی نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت کی جائے۔خیال رہے کہ گذشتہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب ترک فوج کے ایک ٹولے نے منتخب حکومت کے خلاف طالع آزمائی کی ناکام کوشش کی تھی۔ حکومت کے خلاف انقلاب کی ناکام کوشش کے دوران ہنگاموں میں232افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ مرنے والوں میں حکومت کے حامی اورباغی دونوں شامل ہیں۔ باغیوں کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ہے۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے امریکا میں جلا وطنی کی زندگی گذارنے والے رہ نما فتح اللہ گولن کے حامیوں کو سرکاری اداروں سے چن چن کر نکالنے کا اعلان کیا ہے۔آپریشن کلین اپ کے دوران اب تک فوج اورپولیس سمیت محکمہ تعلیم کے ہزاروں سرکاری ملازمین کو معطل کر دیا گیا ہے۔ادھر دوسری جانب ترک حکومت نے ملک میں آنے والے سیاحوں کا تحفظ یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ جدہ میں ترکی کے مستقل مندوب صالح مطلوشن نے بتایا کہ ترک حکومت نے موجودہ بحران کے باوجود غیرملکی سیاحوں کی حفاظت یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترکی میں سیاسی بحران کے باوجود غیرملکی سیاحوں کی آمد و رفت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا ہے۔ تاہم اس کے باوجود حکومت نے ہنگامی احفاظتی انتظامات کیے ہیں۔